تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزہ نیوز ایجنسی| بلاشبہ تواضع ایک ایسی عظیم اخلاقی صفت ہے جو اپنے موصوف کو عند اللہ اور عندالناس مکرم و محبوب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تواضع کی لغوی تعریف:
تواضع، تفاعل کے وزن پر ایک عربی لفظ ہے جو"وضع" سے مشتق ہے۔
اہل لغت نے " تواضع " کا معنی " تذلل" (1) یعنی عاجزی، فروتنی اور انکساری بیان کیا ہے۔
تواضع کی اصطلاحی تعریف:
عالم اخلاق ملا محمد مہدی نراقی علیہ الرحمہ نے تواضع کی تعریف اس طرح کی ہے:
التواضع :ھوَ انْكِسَارٌ لِلنَّفْسِ يَمْنَعُهَا مِنْ أَنْ تَرَى لِذَاتِهَا مَزِيَّةً عَلَى الْغَيْرِ، وَتَلْزَمُهُ أَفْعَالٌ وَأَقْوَالٌ مُوجِبَةٌ لِاسْتِعْظَامِ الْغَيْرِ وَإِكْرَامِهِ، وَالْمُوَاظَبَةُ عَلَيْهَا أَقْوَى مُعَالَجَةٍ لِإِزَالَةِ الْكِبْرِ.(2)
یعنی تواضع نفس کے اندر پائی جانے والی ایسی انکساری کو کہتے ہیں جو انسان کو اس بات سے روکتی ہے کہ وہ خود کو اپنے غیر سے برتر سمجھے، یہ صفت اس کے لئے لازم قرار دیتی ہے کہ اس سے ایسے اقوال و افعال صادر ہوں جو دوسرے کی تعظیم و تکریم کا سبب بنیں اور ان اقوال و اعمال کی مسلسل پابندی تکبر کو زائل کرنے کا بہت مضبوط وسیلہ ہوتی ہے۔
اس تعریف سے سمجھ میں آتا ہے کہ فقط کم بولنے اور سر جھکائے رہنے کی عادت کا نام تواضع نہیں ہے، بلکہ وہ نفس انسانی کے اندر پائی جانے والی ایسی قلبی و باطنی راسخ کیفیت و خاصیت کا نام ہے جو انسان کو احساس برتری سے بچاکر اسے اس کی حقیقی حد و حیثیت میں رکھتی ہے اور اپنے ہمنوع افراد کا جائز احترام و اکرام بجالانے کا پابند بناتی ہے۔
اگر کسی شخص کے اندر یہ اخلاقی صفت اپنے مذکورہ معنی و مفہوم کے ہمراہ پائی جاتی ہو تو وہ یقیناً "متواضع" ہے لہذا اسے متواضع سمجھ کر اس کا احترام و اکرام کرنا چاہیئے۔
یاد رہے کہ تواضع کا مطلب اپنے آپ کو ذلیل کرنا، اپنے واجب حقوق سے کنارہ کش ہونا یا دوسروں کے سامنے خود کو بالکل حقیر و بے بس ظاہر کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اپنی عزت و حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے احساس برتری میں مبتلا ہوئے بغیر، دوسروں کے اکرام و احترام کا لحاظ رکھنا اور ان کے ساتھ انکساری سے پیش آنا ہے۔
قرآن مجید میں تواضع کی اہمیت:
1۔قرآن مجید نے اس باعظمت اخلاقی صفت کو اللہ تعالی کے پسندیدہ اور محبوب بندوں میں پائی جانیوالی ایک علامت و نشانی کے طور پر اس طرح ذکر کیا ہے:
"وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا"(3)۔
اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی و انکساری کے ساتھ چلتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے اندر تواضع نہیں پائی جاتی اس کے رحمن کا بندہ ہونے پر سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے۔
2۔قرآن کریم نے باقاعدہ اللہ تعالی کے محبوب ترین رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اہل ایمان کے ساتھ تواضع سے پیش آنے کا اس طرح حکم دیا ہے:
"و اخفض جناحک للمومنین" (3)۔
اور اہل ایمان کے لئے اپنا بازو جھکائے رکھیں۔
جب اس آیہ کریمہ میں اہل ایمان سے متعلق خداوند متعال کے اعظم و اشرف رسول کو یہ حکم دیا جا رہا ہے تو خود اہل ایمان کو آپس میں اس امر کی کتنی رعایت کرنی ہوگی یہ واقعاً غور و فکر کا مقام ہے۔
روایات اہل بیت میں تواضع کی عظمت:
1۔سرکار امام رضا علیہ الصلوة و السلام تواضع کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"التَّوَاضُعُ أَنْ تُعْطِيَ النَّاسَ مَا تُحِبُّ أَنْ تُعْطَاهُ(4)۔
تواضع یہ ہے کہ تم لوگوں کو وہ چیزیں عطا کرو جن چیزوں کو تم چاہتے ہو کہ وہ تمھیں عطا کی جائیں۔
ظاہر ہے کہ اس ارشاد مبارک میں مادی و معنوی دونوں طرح کی چیزیں داخل و شامل ہیں اور حقیقی متواضع ان دونوں کو جس طرح اپنے لئے پسند کرتا ہے اسی طرح اپنے بھائیوں کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔
2۔ تواضع کی اصل یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کی بارگاہ اقدس میں ایسی غیر معمولی عاجزی و خاکساری سے پیش آئے جو فقط اور فقط اسی سے مخصوص ہو لیکن اپنے ہمنوع افراد یا دینی و ایمانی بھائیوں کے سامنے جس تواضع کا برتاو کرے اسے بھی خداوند متعال کی رضا و خوشنودی کی خاطر ہونا چاہیئے چونکہ ایسا کرنے سے خداوند متعال کی طرف سے بندہ کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔
جس کا اشارہ سرکار امام صادق علیہ الصلوة و السلام کے اس مبارک فرمان سے ملتا ہے:
"مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَهُ اللّٰهُ"(6)۔
جو اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرے گا، اللہ اسے رفعت و بلندی عطا فرمائے گا۔
3۔ تواضع نفس و قلب کے اندر پائی جانے والی ایسی راسخ و نافذ کیفیت و حالت کا نام ہے کہ جس کے نورانی اثرات باقاعدہ عملی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
جنہیں سرکار امام صادق علیہ الصلوة و السلام سے منقول اس روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
"إِنَّ مِنَ التَّوَاضُعِ أَنْ يَرْضَى الرَّجُلُ بِالْمَجْلِسِ دُونَ الْمَجْلِسِ، وَأَنْ يُسَلِّمَ عَلَى مَنْ يَلْقَى، وَأَنْ يَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَلَا يُحِبَّ أَنْ يُحْمَدَ عَلَى التَّقْوَى"(7)۔
چھٹے امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
آدمی کا مجلس و محفل میں کسی بھی معمولی جگہ بیٹھنے پر راضی ہوجانا، ہر ملنے والے سے سلام کرنا، حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا نہ کرنا اور اپنے تقوی و پرہیزگاری پر کسی سے تعریف نہ چاہنا تواضع سے تعلق رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان چاروں پر تواضع کے بغیر عمل کرنا بہت مشکل کام ہے:
الف؛ چونکہ رات دن دیکھنے میں آتا ہے کہ جن کے یہاں یہ صفت نہیں ہوتی وہ جب بھی کسی مجلس و محفل میں جاتے ہیں تو چاہے کتنا ہی بڑا مجمع کیوں نہ ہو اسے چیرتے ہوئے ہمیشہ صدر مجلس و محفل میں جاکر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ب؛ اسی طرح سب کو سلام کرنا ہے اگرچہ سلام کرنا بہت سہل و آسان کام ہے اور اس نفع لبریز نیکی کو بجالانے کے لئے فقط دو لفظ زبان سے نکالنے پڑتے ہیں لیکن جن کے یہاں تواضع نہیں پائی جاتی انھیں سدا یہی انتظار رہتا ہے کہ انھیں سلام کیا جائے، چونکہ وہ خود کسی کو سلام کرنے میں اپنی سبکی اور کوئی انھیں سلام کرے تو اس میں اپنی بڑائی محسوس کرتے ہیں۔
ج؛ نزاع، اختلاف اور جھگڑا اتنی بری چیز ہے کہ حق پر ہوتے ہوئے بھی اس سے بچنا چاہیئے لیکن جن کے اندر تواضع نہیں پائی جاتی وہ بات بات پر جھگڑتے اور ناک بھوں چڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں، رب کریم ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔
د؛ انسان کو تقوی فقط اپنے خالق و مالک کے لئے اختیار کرنا چاہیئے اور فقط اسی سے مدح و تعریف اور انعام و اکرام کی امید رکھنی چاہیئے اور اس سلسلہ میں لوگوں سے داد و تحسین کا متمنی نہیں رہنا چاہیئے چونکہ اس سے شرک و ریا کاری کی بدبو آتی ہے۔
تواضع کے چند عظیم فائدے :
1۔یہ صفت انسان کو خداوند رحمان کا حقیقی بندہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
2۔ یہ تکبر اور احساس برتری کو زائل کرتی ہے۔
3۔ یہ صفت اللہ تعالی کے بندوں اور اپنے بھائیوں کے احترام و اکرام پر ابھارتی ہے۔
4۔ یہ صفت دنیا و آخرت میں ہماری رفعت و بلندی کا سبب قرار پاتی ہے۔
5۔ یہ صفت ہمیں اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے نزدیک نزدیک محبوب و محترم بناتی ہے۔
6۔ یہ صفت ہم سے ہمارے عزیزوں اور دینی بھائیوں کے ساتھ احسان اور نیک برتاو کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔
7۔یہ صفت ہمیں انبیاو مرسلین اور ائمہ طاھرین علیہم السلام سے نزدیکی اور ظالمین و مستکبرین سے دوری اور جدائی عطا کرتی ہے۔
رب کریم سے بحق اھل بیت کرام علیہم السلام سے دعا ہے کہ ہم سب کو تمام نیک اخلاقی صفات بالخصوص اس عظیم صفت سے آراستہ ہونے توفیق کرامت فرمائے۔
حوالہ جات
1۔المعجم الوسیط، ترتیب و چاپ مجمع اللغةالعربیہ بالقاھرہ، مادہ "وضع"۔
2۔نراقی، جامع السعادات، ج 1، ص 394۔398۔
3۔قرآن حکیم، سورہ فرقان، آیہ 63۔
4۔قرآن حکیم، سورہ حجر، آیہ 88۔
5۔کلینی، الکافی، ج2، باب التواضع۔
6۔حوالہ سابق۔
7۔ حوالہ سابق۔










آپ کا تبصرہ